کورونا وائرس: کیا تفتان پاکستان کا ووہان ثابت ہو سکتا ہے؟ 1

کورونا وائرس: کیا تفتان پاکستان کا ووہان ثابت ہو سکتا ہے؟

By

پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور سندھ کے بعد خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بھی اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی موجودگی کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد دو سو کے قریب پہنچ چکی ہے اور اس تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ہے۔

سندھ کے نئے مریض ہوں یا پنجاب اور خیبر پختونخوا کے پہلے کیس ان تمام متاثرین میں ایک چیز قدرِ مشترک ہے اور وہ یہ کہ یہ تمام لوگ ایران سے پاکستان آئے اور تفتان کے مقام پر بنائے گئے قرنطینہ مرکز میں 14 دن کی مدت گزارنے کے بعد اپنے علاقوں میں پہنچے ہیں۔

تفتان میں بنائے گئے قرنطینہ میں دستیاب سہولیات اور وہاں کے انتظام کے بارے میں خدشات نئے نہیں۔ جب سے یہ قرنطینہ قائم کیا گیا تھا وہاں کے ناگفتہ بہ حالات اور حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال نہ رکھے جانے کے الزامات سامنے آنے لگے تھے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر تفتان کا تقابل چین کے شہر ووہان سے کیا جانے لگا ہے۔ ووہان وہ مقام ہے جہاں سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی ابتدا ہوئی تھی اور یہ چین میں اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے متعلقہ حکام نے تسلیم کیا ہے کہ تفتان کی سرحد پر قائم قرنطینہ میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے جہاں یہ اس وبا کو روکنے میں خاص مددگار ثابت نہیں ہو سکا وہیں وہاں ایک ساتھ رکھے گئے زائرین کے ایک دوسرے کو یہ وائرس منتقل کرنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

You may also like

Hot News