سائبر سکیورٹی ماہرین نے ایک ایسے ’میل ویئر‘ (Malware)کا سراغ لگایا ہے جس نے ایک ڈیٹا بیس تیار کیا اور اس میں لوگوں کی چوری شدہ لاگ اِن تفصیلات محفوظ کیں۔ اس ڈیٹا بیس کا حجم 1.2ٹی بی ہے۔ اس میل ویئر (وائرس)نے یہ معلومات اور تفصیلات 2018ءسے 2020ءکے درمیان چوری کرکے اس ڈیٹا بیس میں محفوظ کیں۔ان تفصیلات میں لوگوں کی ’پے منٹ انفارمیشنز‘ (Payment informations)بھی شامل ہیں اور ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہیکرز اس واردات کے ذریعے صارفین کو بھاری مالی نقصان بھی پہنچا چکے ہوں گے یا مستقبل میں پہنچا سکتے ہیں۔

’کروڑوں انٹرنیٹ صارفین کا یہ سب کچھ چوری ہوگیا‘دنیا میں ہیکنگ کی بڑی واردات کا انکشاف

By

نیویارک: سائبر سکیورٹی ماہرین کی طرف سے دنیا میں ہیکنگ کی ایک بڑی واردات کا انکشاف کر دیا گیا۔ میل آن لائن کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واردات میں ہیکرز نے دنیا میں 32کروڑ 50لاکھ کمپیوٹرز کو نشانہ بنایا اور ان سے فیس بک، ایپل، ایمازون اور دیگر پلیٹ فارمز کی ’لاگ اِن‘ تفصیلات چوری کر لیں۔ سائبر سکیورٹی فرم ’نورڈ لاکر‘ کے ماہرین کے مطابق ہیکرز نے ان کروڑوں کمپیوٹرز سے مختلف سوشل میڈیا اور ای کامرس پلیٹ فارمز کے 2کروڑ 60لاکھ سے زائد اکاﺅنٹس کی ’لاگ اِن‘ تفصیلات چوری کیں۔

سائبر سکیورٹی ماہرین نے ایک ایسے ’میل ویئر‘ (Malware)کا سراغ لگایا ہے جس نے ایک ڈیٹا بیس تیار کیا اور اس میں لوگوں کی چوری شدہ لاگ اِن تفصیلات محفوظ کیں۔ اس ڈیٹا بیس کا حجم 1.2ٹی بی ہے۔ اس میل ویئر (وائرس)نے یہ معلومات اور تفصیلات 2018ءسے 2020ءکے درمیان چوری کرکے اس ڈیٹا بیس میں محفوظ کیں۔ان تفصیلات میں لوگوں کی ’پے منٹ انفارمیشنز‘ (Payment informations)بھی شامل ہیں اور ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہیکرز اس واردات کے ذریعے صارفین کو بھاری مالی نقصان بھی پہنچا چکے ہوں گے یا مستقبل میں پہنچا سکتے ہیں۔

You may also like

%d bloggers like this: