وہ لوگ جن کے جسم سائنسدانوں نے ان کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کے لیے جمع کر کے محفوظ کر لیے، یہ کس طرح ممکن ہے؟ حیران کن تفصیلات آپ بھی جانئے 1

وہ لوگ جن کے جسم سائنسدانوں نے ان کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کے لیے جمع کر کے محفوظ کر لیے، یہ کس طرح ممکن ہے؟ حیران کن تفصیلات آپ بھی جانئے

By

نیویارک: حضرت انسان ابتداءسے ہی عمرخضر کی جستجو میں رہا ہے لیکن اب تک موت جیسی حقیقت کو جھٹلا نہیں سکا۔ اب حضرت انسان نے اپنی اس خواہش میں ایسا کام شروع کر دیا ہے کہ سن کر بہت سوں کی حیرت گم ہو جائے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق یہ نظریہ کوئی پرانا نہیں ہے کہ ایک وقت آئے گا جب سائنس اتنی ترقی کر چکی ہو گی کہ وہ محفوظ کی گئی لاشوں کو دوبارہ زندہ کر سکے گی۔ چنانچہ اسی نظریئے کے سچ ہونے کی آس میں کچھ لوگوں نے اپنی لاشیں محفوظ کروانی شروع کر رکھی ہیں۔ ان لوگوں میں بیس بال کے کھلاڑیوں سے لے کر ڈیجیٹل کرنسی ’بٹ کوائنز‘ کے ڈویلپرز تک شامل ہیں جنہوں نے اپنی لاشیں، یا صرف سر مائع نائٹروجن میں محفوظ کرنے کے لیے خود کو پیش کیا ہے۔ 

ان لوگوں کی خواہش ہے کہ ہزاروں سال بعد سہی، مگر کبھی وقت آئے گا کہ سائنس انہیں دوبارہ زندہ کر دے گی اور پھر وہ لافانی ہو جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اس پراسیس کو ’کرائیونکس‘ (Cryonics)کہا جاتا ہے، جس میں لاش منفی 196ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت میں رکھی جاتی ہے تاکہ اس کے پٹھے، بافتیں اور خلیے وغیرہ محفوظ رہیں اور وقت کے ساتھ گل سڑ نہ جائیں۔ برطانیہ کے ’کرائیونکس اینڈ کرائیوپریزرویشن ریسرچ نیٹ ورک‘ کے ساتھ کام کرنے والے پروفیسر جواﺅ پیڈرو ڈی میگالیئز کا کہنا ہے کہ ”آج ہم یہ لاشیں محفوظ کریں گے اور اگر انہیں آج سے 1ہزار سال بعد بھی دوبارہ زندہ کیا جا سکا تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔“ پروفیسر جواﺅ کا کہنا تھا کہ مائع نائٹروجن میں لاش ہزاروں سال تک صحیح سلامت رہ سکتی ہے۔ جب کسی کی لاش کو ’کرائیوپریزرو‘ کیا جاتا ہے تو اس لاش پر وقت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ گویا جب ایک ہزار سال بعد اس لاش کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو وہ اسی حالت اور عمر میں ہو گی جس حالت اور عمر میں اسے آج ’کرائیوپریزرو‘ کیا جائے گا۔“

You may also like