پناہ گاہ میں آنے والوں کاشناختی کارڈ کیوں دیکھو گے، اگر کسی کے پاس نہ ہو تو ؟ وزیر اعظم نے عون عباس اور ثانیہ نشتر سے سوال پوچھ لیا، جواب کیا ملا؟ 1

پناہ گاہ میں آنے والوں کاشناختی کارڈ کیوں دیکھو گے، اگر کسی کے پاس نہ ہو تو ؟ وزیر اعظم نے عون عباس اور ثانیہ نشتر سے سوال پوچھ لیا، جواب کیا ملا؟

By

اسلام آباد: ’کوئی بھوکا نہ سوئے‘ پروگرام کے افتتاح کے موقع پر مینجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) بیت المال پاکستان سینیٹر عون عباس بپی کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران اس وقت وزیر اعظم عمران خان تشویش میں مبتلا ہوگئے جب انہیں بتایا گیا کہ پناہ گاہ میں آنے والوں کے شناختی کارڈ کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔

عون عباس بپی نے وزیر اعظم کو بتایا کہ انہوں نے ایک ایسا سسٹم بنایا ہے جس کے تحت وہ اپنے پاس 100 ملین لوگوں کا ڈیٹا محفوظ کرسکتے ہیں۔ جب کوئی پناہ گاہ میں آتا ہے تو اس کے شناختی کارڈ کو سکین کیا جاتا ہے تاکہ کل کو اگر کوئی پوچھے کہ کتنے لوگوں کو کھانا کھلایا تو ہم اس کے سامنے یہ ڈیٹا پیش کرسکیں۔ اس کا مقصد منصوبے میں شفافیت لانا ہے۔

پناہ گاہ میں آنے والوں سے شناختی کارڈ طلب کرنے کے بارے میں بتایا گیا تو وزیر اعظم عمران خان نے اس پر تشویش ظاہر کی اور سوال پوچھا کہ اگر کسی بیچارے کے پاس کوئی شناختی چیز نہ ہو تو؟ اس پر عون عباس بپی اور ان کے برابر میں کھڑی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیر اعظم کو کہا کہ انہوں نے سکیننگ کا ایک ایسا سسٹم بنایا ہے جس سے 10 سیکنڈ میں سارا عمل مکمل ہوجاتا ہے، اگر کسی کے پاس شناختی دستاویز موجود نہیں ہوتی تو وہ اسے پناہ گاہ میں رکھنے سے منع نہیں کرتے۔

You may also like

%d bloggers like this: