محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی، ملزمان کی رہائی کے باوجود تفتیشی نقطہ نظر سے چشم کشا انکشافات

محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی، ملزمان کی رہائی کے باوجود تفتیشی نقطہ نظر سے چشم کشا انکشافات

By

 لاہور( سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے مقدمہ قتل میں تمام مرکزی ملزمان کی رہائی کے باوجود تفتیشی نقطہ ءنظر سے بعض چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں، شہید محترمہ کے موبائل فونز کا ڈیٹا،ملزمان کی بریت،پولیس افسروں کی اعانت جرم میں گرفتاری اوربم پروف آرمرڈ گاڑی کا ”کپولا“ کھلنے کے بارے میں ہوشربا حقائق نے مقدمے کے کئی نئے در وا کئے ہیں۔ ”پاکستان“ کی جانب سے مقدمہ ءقتل کی مثل کے معائنے سے معلوم ہوا کہ سانحہ راولپنڈی کے دوران پراسرار طور پر غائب ہونیوالے بینظیر کے دونوں موبائل فونز ایف آئی اے نے تین سال بعد بلاول ہاؤس کراچی کی ایک الماری سے باقاعدہ برآمد کئے جن کا ریکوری میمو بھی بنایا گیا اور اس کا فرانزک ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے یو اے ای کی کمپنی اتصالات کو یہ فون بھجوائے گئے لیکن عالمگیر شہرت کی حامل اس لیب نے تحریری رپورٹ دی کہ ”ہم کسی موبائل ٹیلیفون کا ڈیٹا صرف تین ماہ کے عرصے کے دوران حاصل کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں،تین سال بعد محترمہ کے فون موصول ہوئے ہیں جن سے ڈیٹا ریکور کیا جانا ممکن ہی نہیں“۔

You may also like