آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جھڑپیں عالمی تنازعے میں تبدیل ہونے کا خطرہ، رجب طیب اردگان نے انتہائی سخت اعلان کر دیا

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جھڑپیں عالمی تنازعے میں تبدیل ہونے کا خطرہ، رجب طیب اردگان نے انتہائی سخت اعلان کر دیا

By

میل آن لائن کے مطابق امریکہ، روس اور فرانس نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا ہے اور مذاکرات کی میز پر مسئلہ حل کرنے پر زور دے رہے ہیں لیکن آذربائیجان کی حمایت میں کھڑے ترکی نے ان ممالک کو انتہائی سخت جواب دیتے ہوئے اعلان کر دیا ہے کہ جب تک آرمینیا متنازعہ علاقے کیرابیخ سے اپنی فوج مکمل طور پر نہیں نکالتا، لڑائی جاری رہے گی۔ 

رپورٹ کے مطابق ترک فوج اور اس کے لڑاکا طیارے اس محدود جنگ میں آذربائیجان کی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں آرمینیا کی طرف سے ترکی کا ایک ایف 16طیارہ مارگرانے کا دعویٰ بھی کیا تھا جس کی ترکی کی طرف سے تردید سامنے آنے پر آرمینیا نے طیارے کے مرنے والے پائلٹ کی تصاویر جاری کر دی تھیں۔ امریکہ، فرانس اور روس کی طرف سے سیز فائر اور مذاکرات کی طرف آنے کے مطالبے پر مبنی یہ مشترکہ بیان سامنے آنے کے بعد رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ”ان ممالک کا معاملے میں ملوث ہونا قطعی ناقابل قبول ہے۔ انہیں اس معاملے سے دور رہنا چاہیے۔جب تک آرمینیا متنازعہ علاقے سے فوج نہیں نکالتا، فائربندی نہیں ہو گی۔“ رپورٹ کے مطابق اس لڑائی میں ترکی اور روس کے آمنے سامنے آنے کا بھی واضح خطرہ ہے کیونکہ ترکی خود اس جنگ کا حصہ ہے اور اس کی فوج وہاں لڑ رہی ہے جبکہ روس کا آرمینیا میں ایک فوجی اڈا موجود ہے جس کی وجہ سے اسے شدید تحفظات لاحق ہیں۔ گزشتہ روز روس کی طرف سے الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ ترکی شام اور لیبیا سے جنگجوﺅں کو آذربائیجان لا رہا ہے تاکہ وہ آرمینیا کے خلاف لڑ سکیں۔ اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے حربی ماہرین اس علاقے میں ایک نئی پراکسی جنگ شروع ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں اور بعض اسے عالمی جنگ کا پیش خیمہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

You may also like

Hot News